پٹنہ،14؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار میں حکومت بنانے کی راہ اس وقت ہموار ہوگئی جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعہ کو ریاستی گورنر فاگو چوہان کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور 16ویں بہار اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش کی۔
اس سلسلے میں جمعہ کو کابینہ کی اہم بیٹھک میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا اور بعد میں اس کی سفارش ریاستی گورنر سے کی گئی تھی۔ وزیراعلی کی صدارت میں کابینہ کی اہم بیٹھک میں ریاستی وزیراعلی نتیش کمار نے ریاستی گورنر عزت مآب فاگو چوہان سے راج بھون میں ملاقات کرکے یہ سفارش نامہ ان کی خدمت میں پیش کی۔ گورنر نے انہیں اکثریت کیلئے مبارک باد بھی دی اور نئی حکومت کی حلف برداری تک نگراں چیف منسٹر کے عہدہ پر برقرار رہنے کو کہا۔
قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت کو 29 نومبر تک تحلیل ہونا ہے اور اس سے قبل ہی نئی حکومت بننی ہے۔ انتخابی کمیشن نے جمعرات کو ہی 17 ویں اسمبلی کے منتخب اراکین اسمبلی کی فہرست گورنر کو سونپی تھی ۔ اس کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہوگئی ہے ۔ اس کے بعد 16 ویں اسمبلی کو تحلیل کرنے سے متعلق سفارش گورنر کو بھیج دی گئی ہے ۔ اس سے قبل آج وزیراعلیٰ مسٹر کمار کی سرکاری رہائش گاہ پر این ڈی اے کے چاروں حلیف بی جے پی ، وی آئی پی اور ہندوستانی عوام مورچہ ( ہم ) کے لیڈران کے ساتھ میٹنگ ہوئی جس میں 15 نومبر کو دو پہر ساڑھے 12 بجے این ڈی اے قانون ساز پارٹی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔ اسی اجلاس میں بطور وزیراعلیٰ نتیش کمار کے نام پر مہر لگے گی۔
ریاستی کابینہ کی تشکیل کیلئے بھی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نائب وزیراعلی بی جے پی سے ہی ہوں گے لیکن بی جے پی کے اہم لیڈران اس بار نائب وزیراعلی کا عہدہ کامیشور چوپال کو دینا چاہتے ہیں اس کے ساتھ ہی 8ویں مرتبہ اسمبلی کی نمائندگی کررہے قد آور بی جے پی لیڈر پریم کمار بھی اس اہم عہدے کے دعویدار ہیں۔بی جے پی ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت کامیشور چوپال کو اس اہم عہدے پر فائض کرنا چاہتی ہےکیونکہ رام مندر کی تعمیر میں ان کا بھی بہت ہی اہم کردار رہا ہے۔ 1989میں جب رام مندر تعمیر کیلئے پہلی اینٹ رکھی گئی تھی تو کامیشور چوپال پیش پیش تھے۔ وہ دلت سماج سے آتے ہیں اور روسڑا سے وہ ایم پی بھی رہ چکے ہیں ساتھ ہی لگاتار دو بار وہ بی جے پی کے ایم ایل سی بھی رہے ہیں ۔ رام مندر ٹرسٹ میں انہیں رکن بنایا گیا ہے اس لئے بی جے پی کے قد آور لیڈران چاہتے ہیں کہ کامیشور چوپال کو یہ اہم عہدہ دیا جائے تاکہ ہندوتو ایجنڈے پر کام کیا جاسکے اور بی جے پی کو جو منڈیٹ لوگوں نے دیا اس کا احترام کیا جاسکے لیکن ابھی تک اس پر آخری مہر نہیں لگی ہے۔ اسپیکر کیلئے بھی بی جے پی دعویدار ہے لیکن جے ڈی یو اپنے کوٹے کا ہی اسپیکر چاہتی ہے۔